http://docs.google.com/View?id=ddwn4xg7_33hcdshrhg
کرکٹ ،کپتانی اور اسلامی نظام
کاشف :تمہارا کیا خیال ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان کیسے ہونا چاہیے ؟
زاہد :میرا خیال ہے محمد یوسف کو ہٹ جانا چا ہیے اور شعیب ملک ،یونس خان یا کسی اور کا کپتان ہونا چاہیے .
کاشف: پر یار میرا خیال ہے محمد یوسف کو ہونا چاہیے
زاہد : وہ کیوں ؟
کاشف :سب سے پہلی بات یہ کے وہ عیسائ مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوا ہے ،دوسری بات یہ کے وہ سب سے اچھا مسلمان ہے ،اس کی شرعی داڑھی بھی ہے ،پانچ وقت کا باجماعت نمازی اور اس کا ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت میں وقت لگانے والا بھی ہے .کیا بات ہے محمّد یوسف کی
زاہد : پر دوست یہ تو کھیل ہے نہ اس میں تو وہ دیکھا جائے گا جو کھیل کے حوالے سے ہوگا ،مانا محمد یوسف ایک اچھا مسلمان ہے پر کھیل کے میدان میں تو یہ دیکھا جائے گا کے کون کس قابل ہے کھیل کے حوالے سے ،نہ کے مذہب کے حوالے سے
کاشف :یہی تو مسلہ ہے تم سیکولر لوگوں کا جو مذہب کو اپنے معملات سے الگ کر دیتے ہیں ،اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ ہوتا ہے ،مذہب کو الگ کرنے کی وجہ سے تو ہمیں نقصان ہو رہا ہے
زاہد : بھائی ، اسس کھیل میں اسلام کہاں سے آگیا ،یا تو تم یہ کہو کے کرکٹ میں اسلام کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لیہ نہ کھیلو یا اگر کھیلنا ٹھیک ہے تو اس کے اصول اور میرٹ پر کھیلو ،کیا اسلام نے کھیل کا بھی کوئی نظام دیا ہے ؟
کاشف : یہی پروبلم ہے تم سیکولر لوگو کا ہمیں اسلام کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا ہے
زاہد : دیکھو اسلام نے اصول دیه ہیں ،پہلی بات کے یہ کھیل جائز ہے یا نہیں ،اگر جائز ہے تو ہم اس کے اصول کے حساب سے کھیلیں گے ،اس کو ہم غیر اسلامی یا اسلامی کیسے کہ سکتے ہیں ؟ ہاں یہ بات ہے کہ بحیثیت ایک اچھے مسلمان کے ہمیں کھیل میں fair رہنا چاہی یہ اور چیٹنگ نہیں کرنا ہوگی .باقی تم پلیز اسلام کو بیچ میں نالاؤ
کاشف :تم لوگ دین کو ذاتی عمل سمجھتے ہو اور ہم اجتماعی ،اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے .ہر چیز پر اسلام کو نافذ کرنا ہوگا
زاہد :یہ جو کرکٹ ہے وہ بھی تو کافروں سے آیا ہے اور اس کے اصول بھی
کاشف :وہ الگ بات ہے ،اسلام اس کو قبول کرتا ہے
زاہد : اب دیکھو اگر مذہب کی بنیاد پر کرکٹ کے پلیز لئے جائیں گے تو کھل کا تو برا حال ہو جائے گا نہ ،ہاں اگر محمد یوسف اچھی پرفارمنس دے تو اسی کو ہی کپتا ن ہونا چاہے ہے
کاشف : اچھا بھائی تمہارے بات مان لی ،کرکٹ سے اسلام کو الگ کرکے دیکھنا ہوگا ،اب خوش ؟
زاہد :تو یار جب ہم کھلاڑی ،منجرز ،ٹھیکیدار ،دکاندار ،محلہ کمیٹی کے ممبر کو منتخب کرنے میں مذہب نہیں بلکے قابلیت یا اسرو ر سوق دیکھتے ہیں تو پھر ہم سیاست میں اور ملک کے نظام میں مذہب کو کیوں لاتے ہیں ؟ ہاں مذہب کے اصول ضرور ہونے چاہیئے پر پر حکومت کوئی مولوی کرے یہ مذہب نے نہیں کہا ،اور اگر اسلام اجتماعی زیادہ اور انفرادی کم ہے تو جنّت اور دوزخ میں جانے کا فیصلہ بھی اجتماعی ہونا چاہیے ،وہاں تو انفرادی عمل کا جواب دینا ہوگا
کاشف : یہی تو کافروں اور سیکولر لوگوں کی سازش ہے کے وہ مذہب کو ذاتی معملا سمجھتے ہیں ،یہی تو ہماری ترقی میں رکاوٹ ہے
زاہد :بھائی ،دنیا کی چیزوں کے لیہ جنہوں نہ کام کیا انہوں نے انعام پایا چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ،اور اسلامی عقائد کے مطابق جو دین کے لیہ کرے گا وہ جنّت میں انعام پے گا .تو دنیا کا کام دنیا کے لئے ور دین کا کام آخرت کے لئے
کاشف :دین اور دنیا الگ نہیں ،اسلامی نظام کو نافذ کرنا ہوگا
زاہد :یہ کہاں لکھا ہے ؟ قرآن میں جگہ جگہ یمن ،نماز ،روزہ ،زکات کا ذِکر ہے نظام کا تو نہیں ؟
کاشف : پورا قرآن و سنّت ہی اسلامی نظام ہے
زاہد : اچھا یہ بتاؤ تم جس کمپنی میں کام کرتے ہو وہاں کا نظام اسلامی ہے یا نہیں ؟
کاشف :یہ کیا بات ہوئی ؟
زاہد : کمپنی کا نظام کیوں اسلامی نہیں ؟ اور کیسے اسلامی بن سکتا ہے ؟
کاشف :اسلامی یہ ہوگا کی سب لوگ ایمانداری سے کام کریں ،سچ بولیں اور اور وقت پر نماز پڑھیں
زاہد :پر یہ تو انفرادی عمل ہوا ،نظام کہاں گیا ؟
کاشف :کسی کمپنی کے نظام کو ایسے ہی فو لو کرنا ہوگا جیسا سسٹم ہے
زاہد : تو پھر ملک کا نظام کیسے اسلامی بنانا ہوگا ؟
کاشف : اگر سب ایمان داری سے کام کریں اور اسلام کے اصول کو دل سے مان کر چلیں .
زاہد : پر یہ نظام تو نہیں ہوا نہ ،یہ تو لوگوں کا عمل ہوا اور اچھا حکمران اور اچھی حکومت کے لیہ ضروری تو نہیں کے کوئی مولانا ،مفتی یا کوئی مذہبی جماعت حکومت کرے یہ تو کوئی بھی کر سکتا ہے نا؟
کاشف :اللہ کی حاکمیت ہو نافذ کرنا ہوگا
زاہد : پھر بتاؤ کرکٹ میں اسلامی نظام کو کیسے نافذ کروں ؟
کاشف : تم سیکولر لوگوں کو کبھی نہیں سمجھ ہے گا
زاہد : شاید تمہیں بھی میری بات سمجھ نہیں ہے گی ،اچھا یہ بتاؤ کپتان کس کو ہونا چاہیے ؟؟
کاشف :اچھا پھر بات ہوگی
الله حافظ